نئی دہلی، 25 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی کی ایک عدالت نے آئی این ایکس میڈیاکی سابق ڈائریکٹر اندرانی مکھرجی کی آئی این ایکس میڈیا کرپشن کیس میں سرکاری گواہ (منظور) بننے کا مطالبہ والی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔عدالت کیس میں 29 مئی کو فیصلہ سنائے گی۔سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم بھی اس معاملے میں ملزم ہیں۔سی بی آئی اور ای ڈی اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کارتی چدمبرم کو2007 میں کس طرح غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ بورڈ (ایف آئی پی بی) سے ا ٓئی این ایکس میڈیاکے لیے منظوری ملی،جب ان کے والد پی چدمبرم مرکزی وزیر خزانہ تھے،اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ایف آئی پی بی کی منظوری کے لئے آئی این ایکس میڈیا کے ڈائریکٹرز پیٹر اور اندرانی مکھرجی نے پی چدمبرم سے ملاقات کی تھی تاکہ ان کے حکم میں کوئی تاخیر نہیں ہو۔ایجنسی نے مکھرجی کی پٹیشن کی حمایت کی ہے۔اندرای ممبئی کی بھایکھلا جیل میں بیٹی شینا بورا کے قتل کے جرم میں سزا کاٹ رہی ہے۔بدعنوانی کیس میں سرکاری گواہ بننے کی اندرانی کی عرضی پر سی بی آئی نے اس کی حمایت کی اور دلیل دی کہ اس معاملے میں ثبوتوں کو مضبوطی ملے گی،اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔سماعت کے دوران عدالت نے مکھرجی سے پوچھا کہ کیا ان پر کوئی دباؤ ہے؟ اس پر انہوں نے کسی دباؤ سے انکار کیا تھا۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ میں خود سے سرکاری گواہ بننا چاہتی ہوں۔بتا دیں کہ 305 کروڑ روپے کی بدعنوانی والے اس معاملے میں اندرای کے علاوہ چدمبرم، ان کے بیٹے کارتی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔یہ معاملہ سال 2007 میں آئی این ایکس میڈیا کو ملی دولت کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ بورڈ (ایف آئی پی بی) سے اجازت ملنے سے منسلک ہے۔سی بی آئی نے 15 مئی کو معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی اور وزیر خزانہ رہتے ہوئے چدمبرم کی مدت میں 2007 میں کل 305 کروڑ روپے کی غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے میں میڈیا گروپ کو ایف آئی پی بی کی منظوری دینے میں مبینہ بے ضابطگی کا الزام لگایا تھا۔